Disinfo | ڈس انفو

ارشاد سلیم، کراچی

جامعہ این ای ڈی کراچی کا ماحول آج اتنا سوگوار تھا کہ جیسے کوئی عظیم سانحہ رونما ہوا ہو ۔ ناصرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی پارٹی نمبر ب کے جلسے میں شرکت کیلئے پرعزم اور جذباتی دکھائی دے رہی تھی کچھ کی آنکھیں ٹماٹر کی طرح سرخ اور کئی کہ چہرے زرد پڑ گئے تھے۔

سوال یہ ہے کہ آخر اس پوسٹر میں ایسا کیا چھپ گیا تھا کہ ماحول اچانک تبدیل ہو گیا ۔ پارٹی نمبر الف کے کیمپ میں سوائے کارکنان کے کوئی بھی موجود نہ تھا اور پارٹی نمبر ب کے کارکنان دل ہی دل میں مسٹر ایکس کی چالاکی پر خوشی سے لوٹ پوٹ ہورہے تھے ۔

یہ ایک دن پہلے کی بات تھی جب پارٹی نمبر الف کے کچھ لڑکے اگلے دن ہونے والے جلسے کی تیاری میں مصروف تھے اور اچانک کسی بات پر جھگڑا شروع ہوگیا، پارٹی نمبر ب کے ارکان نے پارٹی نمبر الف کے کچھ لڑکوں کی ایسی دھلائی کی کہ معاملہ سنگین ہو گیا ، زخمی ہسپتال روانہ کر دیئے گئے اگلے روز جلسہ اور کچھ دنوں میں الیکشن ہونے تھے اور اگر اگلی صبح اسٹوڈنٹ کو یہ معلوم ہوجاتا تو یقیناً پارٹی نمبر الف کو بھر پور ہمدردی مل جاتی۔

اس صورتحال میں مسٹر ایکس نے لڑکوں سے کہا کہ جلد از جلد نکلی پٹیاں اپنے سروں اور ہاتھ پیروں پر باندھ لو اور ڈرپ لگا کر ہسپتال میں تصویریں بنواؤ پھر ان تصاویر کو راتوں رات چھپنے کیلئے دے دیا اور ساری رات جاگ کر صبح فجر تک پمفلیٹ چھپ کر تیار ہوگئے ، جن مقامات سے پوائنٹ کی بسیں چلنا شروع ہوتی تھی وہاں سے پارٹی نمبر ب کے لڑکوں نے پمفلیٹ تقسیم کرنا شروع کیا اور تمام بسوں کے این ای ڈی پہچتے پہنچتے اسٹوڈنٹس کے ذہن افسردہ اور جذبات ابھر چکے تھے پارٹی نمبر الف نے صبح کی کلاس شروع ہونے سے قبل جو پمفلٹ تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی بنائی تھی وہ مکمل ناکام ہوگئی اور نوے فیصد اسٹوڈنٹس پارٹی نمبر ب کے ہمدرد بن گئے ماحول سوگوار ہو گیا جلسہ شروع ہوتے ہی سیکڑوں اسٹوڈنٹس پارٹی نمبر ب کے پنڈال میں موجود تھےاور پارٹی نمبر الف کے کچھ درجن کارکنان مسٹر ایکس کی اس حکمت عملی کے بعد آنکھوں میں آنسوں اور دل میں غصہ لئے بغلے بجا رھے تھے۔

موجودہ دور میں ڈس انفو کی لہر دنیا بھر میں دکھائی دے رہی ہے جو کوئی نئی بات نہیں، جامعہ این ای ڈی کا یہ واقعہ آج سے تقریباً پچاس سال پہلے کا ہے جو یہ ثابت کررہا ہے کہ ففتھ جنریشن وارفعر دور میں تصاویر اور ذرائع ابلاغ کو کس طرح ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے ایک جھٹکے میں سینکڑوں لوگوں کو مائل کیا جا سکتا ہے۔

Irshad Salim, Karachi, Nov. 1, 2022 | Jhatke Pe Jhatke (Shock & Awe) Series

Honorary contributors to DesPardes: Adil Khan, Ajaz Ahmed, Anwar Abbas, Arif Mirza, Aziz Ahmed, Bawar Tawfik, Dr. Razzak Ladha, Dr. Syed M. Ali, G. R. Baloch, Haseeb Warsi, Hasham Saddique, Jamil Usman, Javed Abbasi, Jawed Ahmed, Ishaq Saqi, Khalid Sharif, Majid Ahmed, Masroor Ali, Md. Ahmed, Md. Najibullah, Mushtaq Siddiqui,, Mustafa Jivanjee, Nusrat Jamshed, Shahbaz Ali, Shahid Hamza, Shahid Nayeem, Shareer Alam, Syed Ali Ammaar Jafrey, Syed Hamza Gilani, Shaheer Alam, Syed Hasan Javed, Syed M. Ali, Tahir Sohail, Tariq Chaudhry, Usman Nazir

One thought on “Disinfo | ڈس انفو

Comments are closed.